السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: جواز الإجارة باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا يُوسُفُ، وَإِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْمَسْرُوقِيُّ، قَالُوا جَمِيعًا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أُجْرَتِكَ الَّتِي شَرَطْتَ لَنَا، ومَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ثُمَّ خُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ ⦗١٩٧⦘ عَلَيْهِ، وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لِهَؤُلَاءِ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ لَهُمْ: كَمِّلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ؛ فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ وَخُذُوا أَجْرَكُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ، فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِم حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ وَالْأَجْرَ كُلَّهُ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللهُ وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هُدَى اللهِ وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ.سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمانوں اور یہودیوں و عیسائیوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے کچھ مزدور لگائے کہ وہ صبح سے رات تک ایک معلوم معاوضے پر کام کریں گے۔ پس انہوں نے دوپہر تک کام کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی کوئی ضرورت نہیں، جو تو نے شرط لگائی ہے اور جو ہم نے کام کیا وہ بھی باطل ہے۔ پس اس نے ان کو کہا: تم ایسے نہ کرو، باقی دن بھی کام کرو، پھر اپنی مکمل اجرت لو، پس انہوں نے انکار کر دیا اور وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس نے اور لوگوں کو مزدوری پر لگایا اور کہا: تم باقی دن کام کرو اور تمہارے لیے وہی ہے جو میں نے شرط لگائی ہے، پس انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، انہوں نے کہا: جو ہم نے کام کیا وہ باطل ہے اور جو اجرت تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تیری ہی ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس اس نے ان سے کہا: باقی دن بھی کام کرو، دن کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا ہے اور اپنی اجرت لے لو۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس آدمی نے ایک اور قوم کو مزدوری پر لگایا، انہوں نے باقی دن کام کیا یہاں تک کہ جب مغرب ہوئی تو انہوں نے پہلی دو جماعتوں کی اجرت پوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے یہود و نصاریٰ کی کہ انہوں نے اس چیز کو چھوڑ دیا جو اللہ نے ان کو حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی مثال یہ کہ انہوں نے اللہ کی ہدایت کو اور رسول اللہ ﷺ جو چیز لے کر آئے اسے قبول کر لیا۔“