السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: جواز الإجارة باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، فَقَالَ: " هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ: " فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، وَأَبَيْنَ مِنْهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارا زمانہ گزرے ہوئے زمانوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے نمازِ عصر سے نمازِ مغرب کا وقت ہوتا ہے۔ اہلِ تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا اور اہلِ انجیل کو انجیل دی گئی۔ انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر تم کو قرآن دیا گیا، پس تم نے اسے سیکھا یہاں تک کہ مغرب ہو گئی، پس تم کو دو دو قیراط دیے گئے۔ پس اہل تورات اور اہل انجیل نے کہا: اے ہمارے رب! ان کو عمل کم اور بدلہ زیادہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“