السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: جواز الإجارة باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 11647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عِيسَى بْنُ حَامِدٍ الرُّخَّجِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَشَّاءُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ يَتَحَامَلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ مِائَةَ أَلْفٍ " وَمَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نَفْسَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَبِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ بِالِإجَارَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمیں صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے بعض لوگ بازار کی طرف جاتے، بوجھ اٹھاتے اور ایک «مُدّ» (غلہ) حاصل کرتے، لیکن آج بعض ایسے ہیں جن کے پاس ایک لاکھ موجود ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا خیال کرتا ہوں۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اجرت پر کام کیا کرتے تھے۔