حدیث نمبر: 11635
قَالَ اللهُ تَعَالَى {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6]، فَأَجَازَ الْإِجَارَةَ عَلَى الرَّضَاعِ، وَقَالَ {قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26] إِلَى آخِرِ الْقِصَّةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرَ اللهُ أَنَّ نَبِيًّا مِنْ أَنْبِيَائِهِ آجَرَ نَفْسَهُ حِجَجًا مُسَمَّاةً، مَلَكَ بِهَا بُضْعَ امْرَأَةٍ، فَدَلَّ عَلَى تَجْوِيزِ الْإِجَارَةِ، قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: اسْتَأْجَرَهُ عَلَى أَنْ يَرْعَى لَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ ”پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔“ [سورة الطلاق: 6]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے پر اجارہ (اجرت کا معاملہ) جائز قرار دیا۔
اور فرمایا: ﴿قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ ”ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! اسے اجرت پر رکھ لیجیے، بے شک بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔“ [سورة القصص: 26] قصے کے آخر تک۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے انبیاء میں سے ایک نبی نے چند مقررہ سالوں کے لیے خود کو اجرت پر دیا، جس کے بدلے وہ ایک عورت (سے نکاح) کے مالک ہوئے، تو یہ اجارہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان کو اس (شرط) پر اجرت پر رکھا تھا کہ وہ ان کی (بکریاں) چرائیں گے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دودھ پلانے پر اجارہ (اجرت کا معاملہ) جائز قرار دیا۔
اور فرمایا: ﴿قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ ”ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! اسے اجرت پر رکھ لیجیے، بے شک بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔“ [سورة القصص: 26] قصے کے آخر تک۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے انبیاء میں سے ایک نبی نے چند مقررہ سالوں کے لیے خود کو اجرت پر دیا، جس کے بدلے وہ ایک عورت (سے نکاح) کے مالک ہوئے، تو یہ اجارہ کے جواز پر دلالت کرتا ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان کو اس (شرط) پر اجرت پر رکھا تھا کہ وہ ان کی (بکریاں) چرائیں گے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“
حدیث نمبر: 11635
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا: مَا عِلْمُكِ بِقُوَّتِهِ وَأَمَانَتِهِ؟ فَقَالَتْ: " أَمَّا قُوَّتُهُ، فَإِنَّهُ رَفَعَ الْحَجَرَ وَحْدَهُ، وَلَا يَطِيقُ رَفْعَهُ إِلَّا عَشَرَةٌ، وَأَمَّا أَمَانَتُهُ، فَقَوْلُهُ: امْشِي خَلْفِي وَصِفِي لِيَ الطَّرِيقَ؛ لَا تَصِفُ الرِّيحُ لِي جَسَدَكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس قصہ میں منقول ہے کہ ان (عورتوں) کے باپ (شعیب رحمہ اللہ) نے پوچھا: ”تمہیں کیسے علم ہے اس کی قوت اور امانت داری کا؟“ تو اس نے کہا: ”اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے اکیلے ہی وہ ڈول کھینچ لیا جسے دس آدمی اٹھاتے تھے اور اس کی امانت اس کا یہ کہنا کہ تو میرے پیچھے چل اور راستہ بتا دینا، یہ اس لیے کہ ہوا تیرا جسم میرے لیے عیاں نہ کر دے۔“
حدیث نمبر: 11636
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ قَالَ: " فَزَادَهُ ذَلِكَ فِيهِ رَغْبَةً، فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتِيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّالِحِينَ} [القصص: ٢٧] أَيْ فِي حُسْنِ الصُّحْبَةِ وَالْوَفَاءِ بِمَا قُلْتُ، قَالَ مُوسَى {ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ} [القصص: ٢٨]، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ {وَاللهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ} [القصص: ٢٨]، فَزَوَّجَهُ، وَأَقَامَ مَعَهُ يَكْفِيهِ وَيَعْمَلُ لَهُ فِي رِعَايَةِ غَنَمِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ شعیب علیہ السلام نے کہا: ﴿میں ارادہ رکھتا ہوں کہ میں تیرا نکاح ان دو بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کے ساتھ کر دوں گا، اس شرط پر کہ تو میرے ہاں آٹھ سال نوکری کرے۔ پس اگر تو دس سال پورے کرے گا تو تیری طرف سے ہے اور میں ارادہ نہیں رکھتا کہ تجھ پر سختی کروں۔ اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے صالح لوگوں میں پائے گا﴾ [سورة القصص: 27] یعنی رہنے کے اعتبار سے اچھا اور جو میں نے کہا ہے اس کو پورا کرنے میں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ﴿یہ میرے اور تیرے درمیان ہے کہ میں دونوں مدتوں میں سے کسی کو پورا کروں، پس میرے اوپر زیادتی نہ ہو﴾ [سورة القصص: 28] اس نے کہا: ہاں، ﴿اللہ تعالیٰ جو ہم نے کہا اس پر وکیل ہے﴾ [سورة القصص: 28] (یوسف) پس اس (شعیب علیہ السلام) نے اس کے ساتھ بیٹی کی شادی کی اور وہ اس کے ساتھ رہے اور ان کی بکریوں کا کام کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 11637
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ يَهُودِ أَهْلِ الْحِيرَةِ فَسَأَلَنِي: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، سَأَقْدَمُ غَدًا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَدِمْتُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " قَضَى أَكْثَرَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا "، فَلَقِيتُ الْيَهُودِيَّ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: صَاحِبُكُمْ عَالِمٌ ⦗١٩٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَرْوَانَ، وَزَادَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ فَعَلَ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَقِيتُ الْيَهُودِيَّ إِلَى آخِرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اہل حیرہ کے یہودیوں میں سے ایک آدمی ملا، اس نے مجھ سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کس کو پورا کیا؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا، میں کل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤں گا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے وہ مدت پوری کی جو زیادہ اور پاکیزہ تھی۔ میں نے یہودی کو خبر دی تو اس نے کہا: تمہارا وہ صاحب عالم ہے۔
حدیث نمبر: 11638
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: " أَبْعَدَهُمَا وَأَطْيَبَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کون سی پوری کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دونوں میں سے بعد والی اور پاکیزہ۔“
حدیث نمبر: 11639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ سُفْيَانُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَأَلْتُ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أِيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَتَمَّهُمَا وَأَكْمَلَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کونسی پوری کی؟ تو جبرائیل نے کہا: ان میں سے جو پوری (۱۰) تھی اور مکمل تھی۔“
حدیث نمبر: 11640
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ سَنَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ وِثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حُطَّتْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَفْضَلَ أَعْمَالٍ عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ تَعَالَى فَسَلُوهُ بِهَا؛ لَعَلَّهُ يُفَرِّجُ بِهَا عَنْكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِيَ امْرَأَةٌ وَوَلَدٌ صِغَارٌ، وَكُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ بَدَأْتُ بِأَبَوِيَّ فَسَقَيْتُهُمَا، فَنَأَى بِي يَوْمًا الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّى نَامَ أَبَوَايَ، فَطَيَّبْتُ الْإِنَاءَ ثُمَّ حَلَبْتُ فِيهِ ثُمَّ قُمْتُ بِحِلَابِي عِنْدَ رَأْسِ أَبَويَ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدِ رِجْلِيَّ، أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِهِمْ قَبْلَ أَبَوِيَّ، وَأَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمَتِهِمَا، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ قَائِمًا حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً رَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ فَأَحْبَبْتُهَا حَتَّى كَانَتْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ، فَسَأَلْتُهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا، حَتَّى تَأْتِيَنِي بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُهَا بِهَا، فَلَمَّا كُنْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتِ: اتَّقِ اللهَ، لَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ عَنْهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنْي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مِنْهَا فُرْجَةً، فَفَرَجَ لَهُمْ مِنْهَا فُرْجَةً. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ ذُرَةٍ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَعْتَمِلُ بِهِ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ ⦗١٩٥⦘ اللهَ وَأَعْطِنِي حَقِّي وَلَا تَظْلِمْنِي، فَقُلْتُ لَهُ: اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ، اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا، فَذَهَبَ فَاسْتَاقَهَا، اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا مَا بَقِيَ مِنْهَا، فَفَرَجَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُمْ، فَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمی چل رہے تھے، ان کو بارش نے روک دیا۔ انھوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ اسی دوران ایک پتھر پہاڑ سے گرا اور غار کے منہ پر آگیا۔ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: اپنے اپنے بہترین اعمال یاد کرو اور ان کے ساتھ اللہ کو پکارو تاکہ وہ اس کی وجہ سے تمہارے اوپر سے پتھر ہٹا دے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے والدین بوڑھے تھے اور میری بیوی اور بچے بھی تھے۔ میں ان کی پرورش کے لیے بکریاں چراتا تھا۔ جب میں شام کو واپس آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو دودھ پلاتا۔ ایک دن درخت کی تلاش میں دور نکل گیا، جب واپس آیا تو وہ دونوں سو چکے تھے۔ میں نے برتن پکڑا اور دودھ دوہا۔ پھر میں دودھ لے کر اپنے والدین کے سر کے پاس کھڑا ہو گیا اور میرے بچے میرے پاؤں کے پاس بلک رہے تھے۔ میں نے ناپسند کیا کہ ان کو نیند سے بیدار کروں۔ میں کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر پھوٹ پڑی۔ اے اللہ! بے شک تو جانتا ہے میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے تاکہ ہم آسمان دیکھ لیں۔ وہ پتھر ہٹا اور انھوں نے آسمان دیکھ لیا۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی، میں اسے پسند کرتا تھا، وہ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے گناہ کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے کہا: پہلے تو مجھے سو دینار دے۔ میں نے کوشش کی، سو دینار جمع کیے، پھر اس کے پاس آیا۔ جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مہر کو نہ توڑ مگر جائز طریقے سے (نکاح سے)۔ میں کھڑا ہو گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا، تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا دے۔ وہ تھوڑا سا اور ہٹ گیا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور لگایا تھا جب اس نے اپنا کام کیا تو میں نے اسے مزدوری دی۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اس نے بے رغبتی کی۔ میں ہمیشہ اس کی اس مزدوری سے کام کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس سے بہت زیادہ گائیں اور بکریاں جمع کر لیں۔ وہ آدمی آیا اور اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مجھے میرا حق دے اور میرے اوپر ظلم نہ کر۔ میں نے کہا: جا اور یہ گائیں اور بکریاں لے جا۔ اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، جا اور یہ گائیں اور بکریاں لے جا۔ وہ لے گیا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے یہ تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر بھی ہٹا دیا پھر وہ نکلے اور چلنے لگے۔“
حدیث نمبر: 11641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ بْنِ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ، ثنا السَّعِيدِيُّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا رَاعِيَ غَنْمٍ "، قَالوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے بھی چرائی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میں بھی قراریط میں اہل مکہ کی بکریاں چراتا تھا۔“
حدیث نمبر: 11642
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا حَمَّادٌ، وَالرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " اسْتَأْجَرَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفْرَتَيْنِ إِلَى جُرَشَ، كُلُّ سَفْرَةٍ بِقَلُوصٍ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَّرْتُ نَفْسِي مِنْ خَدِيجَةَ سَفْرَتَيْنِ بِقَلُوصٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو دو سفروں کی مزدوری دی۔ جرش کی طرف سفر ہوا۔ ایک سفر کے بدلے ایک اونٹنی دی۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خدیجہ سے دو سفروں میں اونٹنی اجرت لی۔“
حدیث نمبر: 11643
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبَّادٍ هَادِيًا خِرِّيتًا، وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ، قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي حِلْفِ آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ وَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ، فَارْتَحَلَا، وَانْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ، فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ أَذَاخِرَ، وَهِيَ فِي طَرِيقِ السَّاحِلِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی دیل کے ایک آدمی کو مزدوری پر رکھا، پھر بنی عباد سے ماہر رہبر لیا، «الخِرِّيْتُ» کا معنی ماہر رہبر ہے، اس نے اپنا ہاتھ خاندانِ عاص بن وائل کے ساتھ وعدہ کر کے ڈبویا تھا کہ وہ کفارِ قریش کے دین پر رہے گا، لیکن ان دونوں کو اس پر اطمینان تھا، انہوں نے اسے اپنی سواریاں دی تھیں اور وعدہ کیا تھا کہ تین راتوں بعد غارِ ثور آئے گا، چنانچہ وہ ان دونوں کے پاس تیسری رات کی صبح کو آیا، وہ دونوں سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور دیلی آدمی بھی ساتھ تھے، یہ رہبر ساحل کے کنارے سے آپ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تھا۔
حدیث نمبر: 11644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ قَبْلَكُمْ مَثْلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ مَا بَيْنَ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا: مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ: هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ كَمَا:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا: کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے؟ پس یہودیوں نے کام کیا، پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے؟ نصاریٰ نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا؟ تو تم نے کام کیا۔ یہود و نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے؟ وہ آدمی کہنے لگا: کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں، پھر وہ کہے گا: وہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دے دیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 11645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، فَقَالَ: " هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، فَقَالَ: " فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، وَأَبَيْنَ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارا زمانہ گزرے ہوئے زمانوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے نمازِ عصر سے نمازِ مغرب کا وقت ہوتا ہے۔ اہلِ تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا اور اہلِ انجیل کو انجیل دی گئی۔ انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر تم کو قرآن دیا گیا، پس تم نے اسے سیکھا یہاں تک کہ مغرب ہو گئی، پس تم کو دو دو قیراط دیے گئے۔ پس اہل تورات اور اہل انجیل نے کہا: اے ہمارے رب! ان کو عمل کم اور بدلہ زیادہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 11646
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا يُوسُفُ، وَإِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْمَسْرُوقِيُّ، قَالُوا جَمِيعًا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أُجْرَتِكَ الَّتِي شَرَطْتَ لَنَا، ومَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ثُمَّ خُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ ⦗١٩٧⦘ عَلَيْهِ، وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لِهَؤُلَاءِ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ لَهُمْ: كَمِّلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ؛ فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ وَخُذُوا أَجْرَكُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ، فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِم حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ وَالْأَجْرَ كُلَّهُ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللهُ وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هُدَى اللهِ وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمانوں اور یہودیوں و عیسائیوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے کچھ مزدور لگائے کہ وہ صبح سے رات تک ایک معلوم معاوضے پر کام کریں گے۔ پس انہوں نے دوپہر تک کام کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی کوئی ضرورت نہیں، جو تو نے شرط لگائی ہے اور جو ہم نے کام کیا وہ بھی باطل ہے۔ پس اس نے ان کو کہا: تم ایسے نہ کرو، باقی دن بھی کام کرو، پھر اپنی مکمل اجرت لو، پس انہوں نے انکار کر دیا اور وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس نے اور لوگوں کو مزدوری پر لگایا اور کہا: تم باقی دن کام کرو اور تمہارے لیے وہی ہے جو میں نے شرط لگائی ہے، پس انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، انہوں نے کہا: جو ہم نے کام کیا وہ باطل ہے اور جو اجرت تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تیری ہی ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس اس نے ان سے کہا: باقی دن بھی کام کرو، دن کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا ہے اور اپنی اجرت لے لو۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس آدمی نے ایک اور قوم کو مزدوری پر لگایا، انہوں نے باقی دن کام کیا یہاں تک کہ جب مغرب ہوئی تو انہوں نے پہلی دو جماعتوں کی اجرت پوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے یہود و نصاریٰ کی کہ انہوں نے اس چیز کو چھوڑ دیا جو اللہ نے ان کو حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی مثال یہ کہ انہوں نے اللہ کی ہدایت کو اور رسول اللہ ﷺ جو چیز لے کر آئے اسے قبول کر لیا۔“
حدیث نمبر: 11647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عِيسَى بْنُ حَامِدٍ الرُّخَّجِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَشَّاءُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ يَتَحَامَلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ مِائَةَ أَلْفٍ " وَمَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نَفْسَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَبِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ بِالِإجَارَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمیں صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے بعض لوگ بازار کی طرف جاتے، بوجھ اٹھاتے اور ایک «مُدّ» (غلہ) حاصل کرتے، لیکن آج بعض ایسے ہیں جن کے پاس ایک لاکھ موجود ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا خیال کرتا ہوں۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اجرت پر کام کیا کرتے تھے۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اجرت پر کام کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11648
وَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " تَكَارَى أَرْضًا، فَلَمْ تَزَلْ بِيَدِهِ حَتَّى هَلَكَ، قَالَ ابْنُهُ: فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا أَنَّهَا لَهُ مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَكَرَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَيْءٍ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زمین کرائے پر لی، وہ ان کے قبضے میں رہی، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، ان کے بیٹے نے کہا: میں نے اپنے باپ کے قبضے میں زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے گمان کیا کہ وہ ان کی ملکیت ہے، یہاں تک کہ وفات کے وقت انہوں نے بتایا اور ہمیں حکم دیا کہ سونا اور چاندی دے کر کچھ کرایہ ادا کریں۔
حدیث نمبر: 11649
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا لَيُصِيبَ مِنْهُ شَيْئًا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا، كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشْرَةَ تَمْرَةً عَجْوَةً، فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ؟ " قَالَ: بَلَغَنِي مَا بِكَ مِنِ الْخَصَاصَةِ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ عَمَلًا لِأُصِيبَ لَكَ طَعَامًا، قَالَ: " فَحَمَلَكَ عَلَى هَذَا حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ؟ " قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ إِلَّا الْفَقْرُ أَسْرَعَ إِلَيْهِ مِنْ جِرْيَةِ السَّيْلِ عَلَى وَجْهِهِ، مَنْ أَحَبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُعِدَّ تِجْفَافًا "، وَإِنَّمَا يَعْنِي الصَّبْرَ ⦗١٩٨⦘ وَرُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی ﷺ کو کچھ مشکل پیش آئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا، وہ کام کی تلاش میں نکلے تاکہ کچھ لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں، وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے اور سترہ ڈول پانی دیا، ہر ڈول کے بدلے کھجوریں تھیں، یہودی نے سترہ عجوہ کھجوریں دے دیں، وہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! یہ کہاں سے لائے ہو؟“ فرمانے لگے: مجھے پتا چلا تھا کہ آپ تنگی میں ہیں، اے اللہ کے نبی! میں نکلا اور میں کام تلاش کرنے لگا تاکہ آپ ﷺ کے لیے کھانا لاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت نے اس چیز پر ابھارا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو بندہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے تو فقر و فاقہ اس کی طرف بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ جلدی آتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے وہ جفاکشی (یعنی صبر) کے لیے تیار ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 11650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ مُشْتَمِلًا فِي خَمِيصَةٍ فَقَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} [الذاريات: ٥٤] لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَيْقَنَ بِالْهَلَكَةِ؛ إِذْ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنَّا حِينَ نَزَلَتْ " وَذَكَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَبَيْنَ يَدَيْ بَابِهَا طِينٌ، قُلْتُ: " تُرِيدِينَ أَنْ تَبُلِّي هَذَا الطِّينَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَشَارَطْتُهَا عَلَى كُلِّ ذَنُوبٍ بِتَمْرَةٍ، فَبَلَلْتُهُ لَهَا وَأَعْطَتْنِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَرُوِيَ عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي نَزْعِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَهُودِيٍّ كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي اسْتِقَاءِ رَجُلٍ غَيْرِ مُسَمًّى.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے: جب یہ آیت ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] (پس آپ ان سے منہ پھیر لیں۔ آپ قابل ملامت نہیں ہیں) نازل ہوئی تو ہم میں سے ہر ایک کو فوت ہونے کا یقین ہوگیا جب نبی ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ہم سے منہ پھیر لیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک انصاری عورت کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے کے سامنے مٹی تھی۔ میں نے کہا: تو اسے گوندھنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے شرط لگائی کہ ہر ڈول کے بدلے کھجور دے۔ میں نے اس مٹی کو گوندھا اور اس نے مجھے سولہ کھجوریں دیں۔ میں وہ لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہودی کے باغ کو پانی لگایا اور ہر ڈول کے بدلے کھجور لی۔