السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: جواز الإجارة باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ قَبْلَكُمْ مَثْلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ مَا بَيْنَ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا: مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ: هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ كَمَا:.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا: کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے؟ پس یہودیوں نے کام کیا، پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے؟ نصاریٰ نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا؟ تو تم نے کام کیا۔ یہود و نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے؟ وہ آدمی کہنے لگا: کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں، پھر وہ کہے گا: وہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دے دیتا ہوں۔“