السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: جواز الإجارة باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، أنبأ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبَّادٍ هَادِيًا خِرِّيتًا، وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ، قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي حِلْفِ آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ وَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا صَبِيحَةَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ، فَارْتَحَلَا، وَانْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ، فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ أَذَاخِرَ، وَهِيَ فِي طَرِيقِ السَّاحِلِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی دیل کے ایک آدمی کو مزدوری پر رکھا، پھر بنی عباد سے ماہر رہبر لیا، «الخِرِّيْتُ» کا معنی ماہر رہبر ہے، اس نے اپنا ہاتھ خاندانِ عاص بن وائل کے ساتھ وعدہ کر کے ڈبویا تھا کہ وہ کفارِ قریش کے دین پر رہے گا، لیکن ان دونوں کو اس پر اطمینان تھا، انہوں نے اسے اپنی سواریاں دی تھیں اور وعدہ کیا تھا کہ تین راتوں بعد غارِ ثور آئے گا، چنانچہ وہ ان دونوں کے پاس تیسری رات کی صبح کو آیا، وہ دونوں سوار ہوئے اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور دیلی آدمی بھی ساتھ تھے، یہ رہبر ساحل کے کنارے سے آپ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تھا۔