السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11627
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَاقَى يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى تِلْكَ الْأَمْوَالِ عَلَى الشَّطْرِ، وَسِهَامُهُمْ مَعْلُومَةٌ، وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ إِنَّا إِذَا شِئْنَا أَخْرَجْنَاكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے بارے میں نصف پر معاملہ طے کیا اور ان کے حصے متعین کیے اور ان پر شرط عائد کی کہ ”ہم جب چاہیں گے تم کو نکال دیں گے۔“