السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فِيمَا يَحْسِبُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، فَغَلَبَ عَلَى الْأَرْضِ وَالزَّرْعِ وَالنَّخْلِ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانٌ يَقُومُونَ عَلَيْهَا، فَأَعْطَاهُمْ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ مَا بَدَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِيهِمْ فِي كُلِّ عَامٍ فَيَخْرُصُهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يُضَمِّنُهُمُ الشَّطْرَ، فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَامٍ شِدَّةَ خَرْصِهِ، وَأَرَادُوا أَنْ يَرْشُوهُ، فَقَالَ: " يَا أَعْدَاءَ اللهِ، تُطْعِمُونِي السُّحْتَ وَلَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ أَحَبِّ النَّاسِ إِلِيَّ، وَلَأَنْتُمْ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ عِدَّتِكُمْ مِنَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ، وَلَا يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ وَحُبِّي إِيَّاهُ عَلَى أَنْ لَا أَعْدِلَ عَلَيْكُمْ " فَقَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اہل خیبر سے لڑائی کی یہاں تک کہ ان کو ایک قلعے کی طرف قید کردیا اور زمین اور باغات پر فتح پا لی۔ انہوں نے کہا: ”اے محمد! ہمیں یہیں رہنے دیا جائے۔ ہم ان باغات کی دیکھ بھال کریں گے“ اور نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بھی خدام نہ تھے جو وہاں رہتے۔ نبی ﷺ نے خیبر ان کو اس شرط پر دے دیا کہ وہ پھلوں، اناج یا جو بھی چیز ہوگی اس کا نصف دیں گے اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ہر سال ان کے پاس جاتے، خرص (اندازہ) لگاتے پھر نصف ان پر لازم کردیتے۔ انہوں نے ایک سال سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سختی کے ساتھ خرص لگانے کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی اور انہوں نے رشوت دینے کا ارادہ کیا۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمنو! تم مجھے حرام کھلانا چاہتے ہو، حالانکہ میں تمہارے پاس اس ہستی کے پاس سے آیا ہوں جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، اور تم مجھے اپنی تعداد کے بقدر بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ مبغوض ہو، اور تم سے میرا بغض اور ان سے میری محبت مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ عدل نہ کروں۔“ پھر انہوں نے کہا: ”اسی عدل کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہے۔“