السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْمُعَافَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَخَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُوهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: " فِي ذَا كَذَا وَكَذَا "، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا آخُذُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ "، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب خیبر فتح ہوا اور ان پر شرط عائد کی زمین کی ہر چیز یعنی، سونا چاندی پر، خیبر والوں نے کہا: ہم اس زمین کو بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہمیں دے دیں۔ ہم اس میں کام کریں گے اور پھلوں کا نصف ہمارا ہوگا اور نصف تمہارا۔ آپ ﷺ نے اس شرط پر خیبر کی زمین ان کو دے دی۔ جب پھل تیار ہو گئے تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا۔ انہوں نے پھلوں کا اندازہ لگایا، جسے اہل مدینہ «الْخَرْصُ» کہتے تھے۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اس طرح ہے۔ انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ زیادہ لے رہے ہیں۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پھلوں کا نصف تم کو دوں گا۔ انہوں نے کہا: یہی وہ حق ہے جس سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم وہ لے کر راضی ہیں جو آپ نے کہا ہے۔“