السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المساقاة— مساقات کا بیان
باب: المعاملة على النخل بشطر ما يخرج منها أو ما تشارطا عليه من جزء معلوم باب: کھجور کے درختوں پر ان سے نکلنے والی نصف پیداوار یا کسی اور مقررہ حصے پر باہمی شرط کے ساتھ معاملہ (مساقات) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11625
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَكَانُوا فِيهَا كَذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَطَائِفَةٍ مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ، فَكَانَتِ الثَّمَرَةُ تُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ، وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو وہیں رہنے دیا جائے اس شرط پر کہ وہ خیبر کی زمین میں کام کریں گے اور جو پھل اور اناج ہوگا اس کا نصف ان کو ملے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تمہیں اسی شرط پر برقرار رکھتے ہیں لیکن جب تک ہماری مرضی ہوگی۔“ وہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور کچھ عرصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اسی شرط پر قائم رہے اور خیبر کا نصف مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس سے خمس لیتے تھے۔