السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القراض— قرضوں اور مضاربت کا بیان
باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحِيَّ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ " ⦗١٨٦⦘ قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ قَالَ: سَمِعَهُ شَبِيبُ مِنْ عُرْوَةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ شَبِيبٌ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، سَمِعْتُ الْحِيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا، قَالَ سُفْيَانُ: يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے منقول ہے (اور اس میں وہی حدیث نمبر ١١٦١٣ والا ترجمہ ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو برے لوگوں کو اپنے قریب کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم میں سے جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ ہرگز ان کا عریف (کارندہ)، نہ پولیس والا، نہ ٹیکس وصول کرنے والا اور نہ ہی خزانچی بنے۔“