السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القراض— قرضوں اور مضاربت کا بیان
باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، سَمِعَ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " هَذَانِ حَدِيثَانِ سَمِعَ أَحَدَهُمَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، وَلَمْ يَسْمَعِ الْآخَرَ وَإِنَّمَا سَمِعَ الْحِيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْ عُرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”بھلائی قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔“