السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القراض— قرضوں اور مضاربت کا بیان
باب: المضارب يخالف بما فيه زيادة لصاحبه، ومن تجر في مال غيره بغير أمره باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11616
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ أُضْحِيَّةً، قَالَ: " قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُهُ فَيَقُولُ فِيهِ: سَمِعْتُ شَبِيبًا يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، فَلَمَّا سَأَلْتُ شَبِيبًا قَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، وَحَدَّثَنِيهِ الْحِيُّ عَنْ عُرْوَةَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ عروہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ ایک بکری خرید لائیں۔