حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ خَالَتِهَا بِنْتِ كَعْبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءَهُ فَدَنَا الْهِرُّ فَأَصْغَى إِلَيْهِ الْإِنَاءَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " كَأَنَّكِ تَعْجَبِينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ بِنَجَسٍ - أَوْ كَلِمَةٍ أُخْرَى - إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ " أُمُّ يَحْيَى هِيَ حُمَيْدَةُ وَابْنَةُ كَعْبٍ هِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ كَعْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ.حافظ ثناء اللہ
ام یحییٰ اپنی خالہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے ان کے قریب پانی رکھا، اتنے میں ایک بلی آئی تو انہوں نے برتن جھکا دیا، بلی نے اس سے پیا، پھر وہ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، میں نے آپ کی طرف تعجب سے دیکھا، انہوں نے میری طرف جھانکا تو کہنے لگے: کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ (بلّی) نجس نہیں ہے“ یا کوئی دوسرا لفظ کہا، ”وہ تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“