أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: وَثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: " أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَدْ قَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِرِوَايَتِهِ فَلَمْ يُقِمْ إِسْنَادَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: جَوَّدَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَرِوَايَتُهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ بِقَرِيبٍ مِنْ رِوَايَةِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا، جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی بیوی تھیں، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے خوب پیا۔ سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (بلّی) نجس نہیں ہے، وہ تمہارے پاس چکر لگاتی رہتی ہے۔“
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ يَحْيَى، عَنْ خَالَتِهَا بِنْتِ كَعْبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ وَضُوءَهُ فَدَنَا الْهِرُّ فَأَصْغَى إِلَيْهِ الْإِنَاءَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ بِفَضْلِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " كَأَنَّكِ تَعْجَبِينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ بِنَجَسٍ - أَوْ كَلِمَةٍ أُخْرَى - إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ " أُمُّ يَحْيَى هِيَ حُمَيْدَةُ وَابْنَةُ كَعْبٍ هِيَ كَبْشَةُ بِنْتُ كَعْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
ام یحییٰ اپنی خالہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ آئے، ہم نے ان کے قریب پانی رکھا، اتنے میں ایک بلی آئی تو انہوں نے برتن جھکا دیا، بلی نے اس سے پیا، پھر وہ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے، میں نے آپ کی طرف تعجب سے دیکھا، انہوں نے میری طرف جھانکا تو کہنے لگے: کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”یہ (بلّی) نجس نہیں ہے“ یا کوئی دوسرا لفظ کہا، ”وہ تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ح. قَالَ: وَأنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ يَحْيَى - قَالَ حَجَّاجٌ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي امْرَأَتَهُ - عَنْ خَالَتِهَا وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ فَسَأَلَ الْوَضُوءَ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ كَأَنِّي أُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ فَقَالَتْ: يَا ابْنَةَ أَخِي إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ " وَفِي حَدِيثِ الْحَوْضِيِّ أَنَّ خَالَتَهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَمَرَّتْ بِهِ الْهِرَّةُ فَأَصْغَى الْإِنَاءَ إِلَيْهَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كَأَنَّهَا تُنْكِرُ مَا يَصْنَعُ، ثُمَّ الْبَاقِي مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ میرے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجی! رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔“
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کے پاس سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، عبداللہ بن ابی قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی، باقی حدیث اسی طرح ہے۔
وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ هَمَّامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَتَوَضَّأُ فَمَرَّتْ بِهِ هِرَّةٌ فَأَصْغَى إِلَيْهَا وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَتْ بِنَجِسَةٍ " وَقَدْ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ وضو کر رہے تھے، ایک بلی گزری تو انہوں نے اس کی طرف برتن جھکا دیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا الْحَجَّاجُ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ أَبُو قَتَادَةَ يُصْغِي الْإِنَاءَ لِلْهِرِّ فَيَشْرَبُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: مَا صَنَعْتُ إِلَّا مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بلی کے لیے برتن جھکا دیتے تھے، وہ پی لیتی، پھر اس سے وضو کرتے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ جو میں نے کیا ہے یہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ يُقَرِّبُ طَهُورَهُ إِلَى الْهِرَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِسُؤْرِهَا. وَكُلُّ ذَلِكَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ مَالِكٍ وَمِنْ شَوَاهِدِهِ مَا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی بلی کے قریب کرتے، وہ اس سے پیتی اور پھر اس کے جھوٹے سے وضو کرتے۔
یہ سب امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔
یہ سب امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ ⦗٣٧٤⦘ أُمِّهِ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْهِرَّةِ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے متعلق فرمایا: ”وہ نجس نہیں ہے، وہ بھی گھر والوں کی طرح ہے۔“
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ أنا أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ الْحَسَنُ بْنُ كَوْثَرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلَاةً لَهَا أَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ صَحْفَةَ هَرِيسَةٍ فَجَاءَتْ بِهَا وَعَائِشَةُ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيْهَا عَائِشَةُ أَنْ ضَعِيهَا فَوَضَعَتْهَا وَعِنْدَ عَائِشَةَ نِسْوَةٌ فَجَاءَتِ الْهِرَّةُ فَأَكَلَتْ مِنْهَا أَكْلَةً - أَوْ قَالَ لُقْمَةً - فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ لِلنِّسْوَةِ: كُلْنَ فَجَعَلْنَ يَتَّقِينَ مَوْضِعَ فَمِ الْهِرَّةِ فَأَخَذَتْهَا عَائِشَةُ فَأَدَارَتْهَا، ثُمَّ أَكَلَتْهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَيْكُمْ " وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَةَ فِي مَعْنَاهُ وَفِي مَا ذَكَرْنَاهُ كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن صالح تمار اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف حلوے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا، وہ لے آئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اسے رکھ دے، اس نے رکھ دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں تھیں، بلی آئی اور اس میں سے ایک بار کھایا یا ایک لقمہ کھایا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (نماز سے) فارغ ہوئیں تو انہوں نے عورتوں کو کہا: کھاؤ، تو وہ بلی کے منہ کی جگہ سے بچنے لگیں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو پکڑ کر گھمایا پھر کھایا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے، وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے“ نیز میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَطِيبُ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عَمِيلَةَ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ سُئِلَ عَنْ سُؤْرِ الْهِرَّةِ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بلی کے جھوٹے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج بیان نہیں فرمایا۔
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: حَدَّثَنِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَهُورُ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الْأُولَى بِالتُّرَابِ، وَالْهِرَّةُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " قُرَّةُ يَشُكُّ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَالْهِرَّةُ مِثْلُ ذَلِكَ وَأَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي إِدْرَاجِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْهِرَّةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ فِي الْكَلْبِ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ قُرَّةَ فَبَيَّنَهُ بَيَانًا شَافِيًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”برتن کی پاکی جب کتا اس میں منہ ڈال جائے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھوئے، پہلی مرتبہ مٹی سے اور بلی سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھوؤ۔“
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔
ابوعاصم ضحاک بن مخلد ثقہ ہیں، مگر انہوں نے بلی کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کو کتے والی مرفوع حدیث میں درج کرنے میں غلطی کی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الدَّارِمِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " ثُمَّ ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْهِرَّ لَا أَدْرِي قَالَهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ⦗٣٧٥⦘ قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِ أَبِي فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْكَلْبِ مُسْنَدًا وَفِي الْهِرِّ مَوْقُوفًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قُرَّةَ مَوْقُوفًا فِي الْهِرَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کی پاکی اس طرح ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور پہلی مرتبہ مٹی سے۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے متعلق ذکر کیا، میں نہیں جانتا کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کہا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالُوا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْهِرِّ يَلِغُ فِي الْإِنَاءِ يُغْسَلُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ كَذَلِكَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایسی بلی کے متعلق بیان فرماتے ہیں، جو برتن میں منہ ڈال جائے کہ ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا وَلَغَ الْهِرُّ غُسِلَ مَرَّةً وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَغَلِطَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْقَصَبِيُّ فَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بلی منہ ڈال جائے تو اس کو ایک مرتبہ دھویا جائے گا۔
محمد بن عمر قصبی نے اس میں غلطی کی اور اسے عبدالوارث کے واسطے سے ایوب سے مرفوع حدیث میں درج کر کے روایت کیا۔
محمد بن عمر قصبی نے اس میں غلطی کی اور اسے عبدالوارث کے واسطے سے ایوب سے مرفوع حدیث میں درج کر کے روایت کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ قَالَا: ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْقَصَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ - أَوْ أُخْرَاهُنَّ - بِالتُّرَابِ " وَالسِّنَّوْرُ مَرَّةً وَرَوَاهُ أَيْضًا جَعْفَرُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي سُؤْرِ الْهِرِّ يُهَرَاقُ وَيُغْسَلُ الْإِنَاءُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ۔ پہلی یا آخری مرتبہ مٹی سے اور بلی سے ایک مرتبہ۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلی کے جھوٹے کے متعلق کہتے ہیں کہ بہایا جائے گا اور برتن ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے گا۔
جعفر بن واقد نے بھی اسے ابن عون سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث میں درج کر کے روایت کیا ہے، لیکن جماعت کی روایت اولیٰ ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلی کے جھوٹے کے متعلق کہتے ہیں کہ بہایا جائے گا اور برتن ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے گا۔
جعفر بن واقد نے بھی اسے ابن عون سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث میں درج کر کے روایت کیا ہے، لیکن جماعت کی روایت اولیٰ ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا هِشَامٌ، فَذَكَرَهُ وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " إِذَا وَلَغَ السِّنَّوْرُ فِي الْإِنَاءِ غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ " وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنِ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بلی برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے گا۔
جبکہ ابن جریج وغیرہ نے اسے عطاء سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
جبکہ ابن جریج وغیرہ نے اسے عطاء سے ان کے اپنے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " يُغْسَلُ الْإِنَاءُ مِنْ وُلُوغِ الْهِرِّ كَمَا يُغْسَلُ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ " هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُفَيْرٍ مَوْقُوفًا وَرُوِيَ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْفَرَجِ، عَنِ ابْنِ عُفَيْرٍ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَدْ قِيلَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلی کے منہ ڈالنے سے برتن دھویا جائے گا، جس طرح کتے کے منہ ڈالنے سے دھویا جاتا ہے۔
ابن عفیر نے اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے، اور روح بن فرج کے واسطے سے ابن عفیر سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے مگر وہ کچھ نہیں۔
ابن عفیر نے اسے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے، اور روح بن فرج کے واسطے سے ابن عفیر سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے مگر وہ کچھ نہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلَّانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ حُجَّةٌ عَلَيْهِ فِي فُتْيَاهُ فِي الْهِرَّةِ إِنْ صَحَّ ذَلِكَ وَإِلَّا فَهُوَ مَحَجُوجٌ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ وَعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ایوب نے اس کو بیان کیا ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی ایسی روایت بھی منقول ہے جو بلی کے بارے میں ان کے اپنے فتویٰ کے خلاف حجت ہے، اگر وہ صحیح ہو، ورنہ ان کے خلاف وہ حدیث حجت ہے جو پہلے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی ﷺ سے گزر چکی ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی ایسی روایت بھی منقول ہے جو بلی کے بارے میں ان کے اپنے فتویٰ کے خلاف حجت ہے، اگر وہ صحیح ہو، ورنہ ان کے خلاف وہ حدیث حجت ہے جو پہلے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی ﷺ سے گزر چکی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ يَعْنِي لَا يَأْتِيهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " قَالَ: فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " السِّنَّوْرُ سَبْعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ انصار کے گھروں میں آئے اور ان کے علاوہ بھی گھر تھے ان میں نہیں آئے، ان پر یہ گراں گزرا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فلاں فلاں کے گھروں میں جاتے ہیں اور ہمارے گھروں میں نہیں آتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے گھروں میں کتے ہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ ان کے گھروں میں بلی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا: ”بلی بھی درندہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِرُّ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلی گھر کے سامان کی طرح ہے۔“