❮
❯
حدیث نمبر: 1159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: وَثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ: " أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَدْ قَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاةِ بِرِوَايَتِهِ فَلَمْ يُقِمْ إِسْنَادَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: جَوَّدَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَرِوَايَتُهُ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ غَيْرِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ بِقَرِيبٍ مِنْ رِوَايَةِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا، جو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی بیوی تھیں، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں بلی آئی اور اس سے پینے لگی۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے خوب پیا۔ سیدہ کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا: اے بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (بلّی) نجس نہیں ہے، وہ تمہارے پاس چکر لگاتی رہتی ہے۔“
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے موطا میں اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ بعض راویوں نے اس کی روایت میں کوتاہی کی اور اس کی سند درست بیان نہیں کی۔ ابوعیسیٰ (ترمذی) کہتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک بن انس نے اس حدیث کو عمدہ سند سے بیان کیا ہے اور ان کی روایت دوسروں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1159
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 75»