السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: رد قيمته إن كان من ذوات القيم، أو رد مثله إن كان من ذوات الأمثال، إذا أتلفه الغاصب أو تلف في يديه باب: اگر غصب کی گئی چیز قیمتی اشیاء میں سے ہو تو اس کی قیمت لوٹانا، یا اگر وہ مثلی اشیاء (جن کی مثل مل جاتی ہو) میں سے ہو تو اس کی مثل لوٹانا، جب غاصب اسے ضائع کر دے یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 11523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ ⦗١٦٠⦘ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، بَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ، فَضَرَبْتُهُ بِيَدِي فَكَسَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا كَفَّارَةُ هَذَا؟ قَالَ: " إِنَاءٌ مَكَانُ إِنَاءٍ، وَطَعَامٌ مَكَانُ طَعَامٍ " فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ وَجَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ فِيهِمَا نَظَرٌ ثُمَّ تَأْوِيلُ الْخَبَرِ مَا مَضَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ تُسْتَهْلَكُ لَهُ الْحِنْطَةُ: إِنَّ عَلَى صَاحِبِهِ لَهُ طَعَامًا مِثْلَ طَعَامِهِ، وَكَيْلًا مِثْلَ كَيْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا کسی کو بناتے نہیں دیکھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک برتن میں کھانا بنا کر بھیجا۔ میں نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے توڑ دیا۔ پھر میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔“