السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: ما جاء في جواز العارية والترغيب فيها باب: عاریت (کوئی چیز مانگ کر استعمال کرنے) کے جواز اور اس کی ترغیب کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: " مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مدینہ میں دشمن کا ڈر تھا، رسول اللہ ﷺ نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے گھوڑا عاریتاً لیا، اس (گھوڑے) کا نام «مَنْدُوب» تھا۔ آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے جب واپس آئے تو فرمایا: ”ہم نے تو کوئی ڈر والی چیز محسوس نہیں کی، لیکن ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر کی طرح پایا ہے۔“