السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: ما جاء في جواز العارية والترغيب فيها باب: عاریت (کوئی چیز مانگ کر استعمال کرنے) کے جواز اور اس کی ترغیب کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ بَسَّامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " الْمَاعُونُ: الْفَأْسُ وَالْقِدْرُ وَالدَّلْوُ، قُلْتُ: فَمَنْ مَنَعَ هَذَا فَلَهُ الْوَيْلُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَلَهُ الْوَيْلُ، مَنْ رَايَا فِي صَلَاتِهِ، وَسَهَا عَنْهَا، وَمَنَعَ هَذَا، فَلَهُ الْوَيْلُ ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ﴿الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] سے مراد کلہاڑی، ڈول اور ہنڈیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جو ان چیزوں کو روکے اس کے لیے ہلاکت ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن جو ان (تینوں باتوں) کو جمع کر لے اس کے لیے ہلاکت ہے، یعنی جو نماز میں دکھلاوا کرے اور اس سے غافل رہے اور ان چیزوں کو روک لے اس کے لیے ہلاکت ہے۔