السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: ما جاء في جواز العارية والترغيب فيها باب: عاریت (کوئی چیز مانگ کر استعمال کرنے) کے جواز اور اس کی ترغیب کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا جَارِيَةٌ لَهَا عَلَيْهَا دِرْعُ قُطْنٍ ثَمَنُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، قَالَتْ: " ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي، انْظُرْ إِلَيْهَا؛ فَإِنَّهَا تُزْهَى عَلَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلِيَّ تَسْتَعِيرُهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
عبدالواحد بن ایمن اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، اس پر ایک یمنی چادر تھی جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”میری اس لونڈی کی طرف دیکھو، اسے گھر میں اس طرح کے کپڑے پہننے میں کوئی دلچسپی نہیں، حالانکہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ کے دور میں مدینہ میں اس جیسی ایک چادر تھی۔ جو بھی عورت دلہن بنتی وہ مجھ سے یہ چادر عاریتاً لیتی تھی۔“