السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: من يجوز إقراره باب: جس شخص کا اقرار کرنا جائز (معتبر) ہے۔
حدیث نمبر: 11450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ فِي قِصَّةِ الرَّجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، انہوں نے خبر دی دو آدمیوں کے قصے کی، وہ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ آپ ﷺ نے انیس سلمی کو حکم دیا کہ: ”وہ دوسری عورت کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کرلے تو اس کو رجم کر دے۔“ پس اس نے اعتراف کر لیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔