السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإقرار— اقرار کا بیان
باب: من يجوز إقراره باب: جس شخص کا اقرار کرنا جائز (معتبر) ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا غَيْلَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ ⦗١٣٨⦘ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ "، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَاسْتَغْفَرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ "، فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّ أُطَهِّرُكَ؟ " قَالَ: مِنَ الزِّنَا، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبِهِ جُنُونٌ؟ " فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: " أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَثَيِّبٌ أَنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ، وَكَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ، قَائِلٌ يَقُولُ: قَدْ هَلَكَ مَاعِزٌ عَلَى أَسْوَأِ عَمَلِهِ، لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مَنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ، إِنْ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ، قَالَ: فَلَبِثُوا بِذَلِكَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ: " اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ "، قَالَ: فَقَالُوا: غَفَرَ اللهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهَا ".سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ تھوڑی دور جا کر پھر واپس پلٹ آئے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں۔“ آپ ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا، جب وہ چوتھی مرتبہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز سے پاک کروں؟“ انہوں نے عرض کی: ”زنا سے۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ مجنون تو نہیں؟“ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ وہ مجنون نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے شراب پی ہے؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے ماعز رضی اللہ عنہ کے منہ کی بو سونگھنے کی کوشش کی لیکن کچھ محسوس نہ کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!۔“ پھر آپ ﷺ کے حکم سے انہیں رجم کر دیا گیا۔ اب لوگوں کے دو گروہ بن گئے۔ کچھ یہ کہہ رہے تھے کہ ماعز رضی اللہ عنہ اپنے برے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو گئے اور ان کی غلطی نے انہیں گھیر لیا ہے، جبکہ کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”ماعز رضی اللہ عنہ کی توبہ سے افضل کسی کی توبہ نہیں ہو سکتی، کیونکہ انہوں نے خود آکر اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا اور عرض کی کہ مجھے پتھروں سے رجم کر دیا جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ دو یا تین دن گزرے تو نبی ﷺ تشریف لائے جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماعز کے لیے استغفار کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”کیا اللہ نے ماعز (رضی اللہ عنہ) کو معاف کر دیا ہے؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر پوری امت کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو جائے۔“ پھر قبیلہ ازد کی ایک عورت لائی گئی، اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! لوٹ جا اور اللہ سے توبہ و استغفار کر۔“ وہ کہنے لگی: ”کیا آپ مجھے اس طرح لوٹا رہے ہیں جس طرح ماعز (رضی اللہ عنہ) کو لوٹاتے رہے؟“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میں زنا کی وجہ سے حاملہ ہوں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم تجھے اس وقت تک رجم نہیں کریں گے جب تک تیرا وضع حمل (بچے کی پیدائش) نہ ہو جائے۔“ انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کا ذمہ لیا، جب اس نے بچہ جن دیا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس آدمی (کفیل) نے عرض کی: ”اس غامدیہ عورت نے بچہ جن دیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم اسے اس وقت تک رجم نہیں کریں گے جب تک اس کا بچہ چھوٹا ہے اور اسے دودھ پلانے والا کوئی میسر نہ ہو۔“ انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت کا میں ذمہ دار ہوں۔“ پھر آپ ﷺ کے حکم سے اسے رجم کر دیا گیا۔