حدیث نمبر: 11451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا، أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ؟ ⦗١٣٩⦘ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَبَعَثَ إِلَى الْيَهُودِيِّ، فَجِيءَ بِهِ فَاعْتَرَفَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی کو اس حالت میں پایا گیا کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا، اسے نبی ﷺ کے پاس لایا گیا، اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کس نے یہ کیا، فلاں نے؟ فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس (لونڈی) نے اپنے سر سے اشارہ کیا، اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف کر لیا، نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الإقرار / حدیث: 11451
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2413، مسلم 1672
تخریج حدیث «بخاري 2413، مسلم 1672»