السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11416
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا السَّرَّاجُ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ الرَّجُلِ عَلَى شَهَادَةِ الرَّجُلِ فِي حَدٍّ، وَلَا كَفَالَةَ فِي حَدٍّ " وَرُوِّينَاهُ أَيْضًا عَنْ شُرَيْحٍ وَمَسْرُوقٍ وَإِبْرَاهِيمَ، وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حد میں کسی آدمی کی گواہی جائز نہیں اور نہ حد میں ضمانت جائز ہے۔