السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: ما جاء في الكفالة ببدن من عليه حق باب: جس پر کوئی حق (قرض وغیرہ) ہو اسے خود پیش کرنے کی ضمانت (کفالۃ بالبدن) کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ وَأَصْحَابِهِ وَشَهَادَتِهِمْ لمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ بِالرِّسَالَةِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِقَتْلِ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، ثُمَّ إِنَّهُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي أُولَئِكَ النَّفَرِ، فَقَامَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَا: اسْتَتِبْهُمْ وَكَفِّلْهُمْ عَشَائِرَهُمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا، فَكفَّلَهُمْ عَشَائِرَهُمْ " ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي التَّرْجَمَةِ بِلَا إِسْنَادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كُفَلَاءَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةً، فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ.حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انہوں نے ابن نواحہ اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بیان کیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ ان کی شہادت بھی بیان کی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس جماعت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ جریر اور اشعث رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور دونوں نے کہا: ان سے توبہ کراؤ اور ان کے قبیلے سے ضمانت مانگو۔ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور ان کے قبیلے نے ان کی ضمانت دے دی۔
(ب) «قَالَ الْبُخَارِيُّ» ”بخاری نے کہا“: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے 100 کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔