السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: الضمان عن الميت باب: میت کی طرف سے (اس کے قرض کی) ضمانت دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ صَدَقَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ: شَهِدْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَبَسَ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، لَوْ حَدَّثْتَنَا حَدِيثًا عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَنَا بِهِ، قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ ⦗١٢٥⦘ يَمُوتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَفْعَلْ؛ فَإِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ: " عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَمَا يَنْفَعُهُ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى اللهِ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ ".عبدالحمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ فرما رہے تھے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے آسمان کو زمین پر واقع ہونے سے روک رکھا ہے اپنی اجازت سے۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابو حمزہ! اگر آپ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ ہمیں اس سے نفع پہنچائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے کہ اس حالت میں فوت ہو کہ اس پر قرض نہ ہو تو ضرور ایسا کرے۔ بیشک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ مقروض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا اس آدمی پر نماز پڑھانا اسے نفع نہیں دے گا جس کی روح اس کی قبر میں رہن رکھی ہوئی ہو۔ پھر اس کی روح اللہ کی طرف نہیں چڑھائی جاتی۔ پس اگر کوئی آدمی اس کی ضمانت دے اس کے قرض کی تو میں جنازہ پڑھا دیتا ہوں۔ میرا نماز جنازہ پڑھانا اسے نفع دے گا۔“