حدیث نمبر: 11400
وَأَمَّا حَدِيثُ الْحَمَالَةِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الْمُزَنِيُّ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُحْتُرِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ لِيُمْسِكْ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى تَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِلْمِ مِنْ قَوْمِهِ فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تاکہ تاوان (کے سلسلہ) میں (مدد کے لیے) سوال کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے: ایک وہ آدمی جس پر تاوان (چٹی) پڑ گیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر (سوال کرنے سے) رک جائے؛ دوسرا وہ آدمی جسے اچانک آفت آ جائے اور وہ (آفت) اس کا مال تباہ کر دے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کی گزر بسر مضبوط ہو جائے یا یہ کہا: اس کی گزر بسر سیدھی ہو جائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے؛ اور تیسرا وہ آدمی جو ضرورت مند بن جائے یا اس (کی حالت) فاقوں تک پہنچ جائے اور اس کی قوم کے تین آدمی اس کے متعلق گواہی دیں تو اس کے لیے سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا (مانگنا) ناجائز اور حرام ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11400
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1044»