السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحوالة— حوالہ کا بیان
باب: وجوب الحق بالضمان باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ عَنْ دَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَهُ: " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ دَيْنٌ، فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمَا عَلَيَّ، بَرِئَ مِنْهُمَا، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَكَّ اللهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ، فَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ، وَالرِّوَايَاتُ فِي تَحَمُّلِ أَبِي قَتَادَةَ دَيْنَ الْمَيِّتِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ ﷺ اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے: ”کیا یہ مقروض تو نہیں تھا؟“ پس اگر کہا جاتا: ہاں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا: نہیں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا؟“ انہوں نے کہا: اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا: ”تم اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔“ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا یہ علی (رضی اللہ عنہ) کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“