السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضمان— ضمانتوں کا بیان
باب: ما يستدل به على أن الضمان لا ينقل الحق بل يزيد في محل الحق فيكون لرب المال أن يأخذهما وكل واحد منهما باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضمانت حق کو منتقل نہیں کرتی بلکہ حق کے محل میں اضافہ کرتی ہے، پس مال کے مالک کو اختیار ہے کہ ان دونوں (مقروض اور ضامن) سے یا ان میں سے کسی ایک سے اپنا حق وصول کر لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَتَخَطَّى خُطًى ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ "، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ: " مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟ " فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، فَعَادَ عَلَيْهِ كَالْغَدِ فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ " فَأَخْبَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ بِالْقَضَاءِ بَرَدَ عَلَيْهِ جِلْدُهُ، وَقَوْلُهُ: " حَقُّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ "، إِنْ كَانَ حَفِظَهُ ابْنُ عَقِيلٍ، فَإِنَّمَا عَنَى بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ لِلْغَرِيمِ مُطَالَبَتُكَ بِهِمَا وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ عَلَيْكَ حَقٌّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُ بَرِيءٌ، كَانَ لَهُ مُطَالَبَتُكَ بِهِ وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا، پھر ہم اسے نبی ﷺ کے پاس لے آئے تاکہ آپ ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ کچھ قدم چلے اور پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، دو دینار ہیں۔ آپ ﷺ واپس پلٹ گئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اپنے ذمہ لے لیے، پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا قرض خواہ کا حق ثابت ہو گیا اور میت ان دیناروں سے بری ہو گئی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر اس کے ایک دن بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان دو دیناروں کا کیا ہوا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کل فوت ہوا ہے“ اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے وہ دونوں ادا کر دیے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: «الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ» ”اب تم نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کر دیا ہے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضا کے ساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہو گئی۔