کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11392
قَالَ اللهُ تَعَالَى {قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ} [يوسف: 72]، وَقَالَ {سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذَلِكَ زَعِيمٌ} [القلم: 40].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ﴾ ”انہوں نے کہا: ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا، اور جو اسے لے آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ انعام) ہے، اور میں اس کا ضامن ہوں۔“ [سورة يوسف: 72]
اور فرمایا: ﴿سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذَلِكَ زَعِيمٌ﴾ ”ان سے پوچھیے کہ ان میں سے کون اس (بات) کا ضامن ہے؟“ [سورة القلم: 40]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11392
حدیث نمبر: 11392
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الزَّعِيمُ غَارِمٌ " قَالَ الْمُزَنِيُّ: وَالزَّعِيمُ فِي اللُّغَةِ هُوَ الْكَفِيلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَاهُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ السُّدِّيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ضمانت دینے والا اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔“ امام مزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «الزَّعِيمُ» لغت میں «الْكَفِيلُ» کو کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11392
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 11393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ضمانت دیتا ہوں اور ضمانت دینے والا اپنا ذمہ لینے والا ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو میرے ساتھ ایمان لایا اور مسلمان ہوا اور ہجرت کی، جنت کے آخری مقام کی بشارت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11393
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 11394
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ يَشَاءُ أَنْ يَمُوتَ " وَذَكَرَ الْمُزَنِيُّ هَا هُنَا حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الضَّمَانِ، وَإِسْنَادُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ضَعِيفٌ، فَالْأَوْلَى بِنَا أَنْ نُقَدِّمَ مَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”میں ضامن ہوں اور ضامن ذمہ دار ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور ہجرت کی؛ (اس کے لیے) جنت کے آخری مقام میں گھر کی بشارت ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کی اور جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر کی، اور جس نے یہ (عمل) کیا اس نے خیر کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا اور شر سے واسطہ نہیں بنانا چاہا، وہ جس جگہ بھی فوت ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11394
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 11395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " فَقَالُوا: لَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11395
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2297، مسلم 1619
تخریج حدیث «بخاري 2297، مسلم 1619»
حدیث نمبر: 11396
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ: " ثَلَاثَ كَيَّاتٍ ". قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ هَكَذَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجِنَازَةِ الْأُخْرَى قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں آپ ﷺ کے پاس تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: تین دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دینار مختصر سازوسامان۔“ پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ انصار کے ایک آدمی جنہیں ابو قتادہ (رضی اللہ عنہ) کہا جاتا تھا، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11396
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 11397
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى أَحَدٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَانِ، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس آدمی کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت لائی گئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کا ذمہ دار ہوں، پھر آپ ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کا زیادہ حق دار ہوں اس کی جان سے۔ جو مقروض فوت ہو اس کا قرض مجھ پر اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11397
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔أخرجه احمد22963،14205،14206»
حدیث نمبر: 11398
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتَقَدَّمَ لِيُصَلِّيَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ لَهُ مِنْ وَفَاءٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ: " جَزَاكَ اللهُ يَا عَلِيُّ خَيْرًا كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَكَّ رِهَانَ أَخِيهِ إِلَّا فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَرَوَاهُ عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ، وَفِيهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَرِئَ مِنْ دَيْنِهِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَيْهِ وَرَوَاهُ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْوَصَّافِيِّ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنَا ضَامِنٌ لِدَيْنِهِ وَالْحَدِيثُ يَدُورُ عَلَى عُبَيْدِ اللهِ الْوَصَّافِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ ﷺ نماز جنازہ پڑھا دیں، آپ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: ”کیا یہ مقروض تو نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے پورا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے اس نے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، آپ ﷺ آگے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے جس طرح سے تو نے اپنے بھائی سے قرض کا بوجھ ہلکا کیا، جو بھی مسلمان اپنے بھائی سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بوجھ ہلکا کریں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11398
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 11399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْآبَاذِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لَمْ يَسْأَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ عَنْ دَيْنِهِ، فَإِنْ قِيلَ عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَهُ: " هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: عَلَيْهِ دِينَارَانِ دَيْنٌ، فَعَدَلَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، هُمَا عَلَيَّ، بَرِئَ مِنْهُمَا، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " يَا عَلِيُّ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، فَكَّ اللهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ، فَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا لِعَلِيٍّ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ: " لَا، بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ ضَعِيفٌ، وَالرِّوَايَاتُ فِي تَحَمُّلِ أَبِي قَتَادَةَ دَيْنَ الْمَيِّتِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ ﷺ اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے: ”کیا یہ مقروض تو نہیں تھا؟“ پس اگر کہا جاتا: ہاں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا: نہیں، تو آپ ﷺ جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا؟“ انہوں نے کہا: اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا: ”تم اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”اے علی! اللہ تجھے بہتر جزا دے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔“ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا یہ علی (رضی اللہ عنہ) کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11399
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 11400
وَأَمَّا حَدِيثُ الْحَمَالَةِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الْمُزَنِيُّ فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُحْتُرِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِي حَمَالَةٍ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ لِيُمْسِكْ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ أَوْ فَاقَةٌ حَتَّى تَكَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِلْمِ مِنْ قَوْمِهِ فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تاکہ تاوان (کے سلسلہ) میں (مدد کے لیے) سوال کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے: ایک وہ آدمی جس پر تاوان (چٹی) پڑ گیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر (سوال کرنے سے) رک جائے؛ دوسرا وہ آدمی جسے اچانک آفت آ جائے اور وہ (آفت) اس کا مال تباہ کر دے، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کی گزر بسر مضبوط ہو جائے یا یہ کہا: اس کی گزر بسر سیدھی ہو جائے، پھر وہ مانگنے سے رک جائے؛ اور تیسرا وہ آدمی جو ضرورت مند بن جائے یا اس (کی حالت) فاقوں تک پہنچ جائے اور اس کی قوم کے تین آدمی اس کے متعلق گواہی دیں تو اس کے لیے سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے، اس کے علاوہ سوال کرنا (مانگنا) ناجائز اور حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11400
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1044»