السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحوالة— حوالہ کا بیان
باب: وجوب الحق بالضمان باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا. ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، قَالَ: " ثَلَاثَ كَيَّاتٍ ". قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَهَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ هَكَذَا فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَفِي رِوَايَةِ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجِنَازَةِ الْأُخْرَى قَالُوا: ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. فَصَلَّى عَلَيْهَا.سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں آپ ﷺ کے پاس تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس پر نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: تین دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین دینار مختصر سازوسامان۔“ پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ انصار کے ایک آدمی جنہیں ابو قتادہ (رضی اللہ عنہ) کہا جاتا تھا، سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔