حدیث نمبر: 11395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " فَقَالُوا: لَا، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ. وَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَكِّيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس انصار کے ایک آدمی کا ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحوالة / حدیث: 11395
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2297، مسلم 1619
تخریج حدیث «بخاري 2297، مسلم 1619»