السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحوالة— حوالہ کا بیان
باب: وجوب الحق بالضمان باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11397
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى أَحَدٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ: " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، دِينَارَانِ، قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس آدمی کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔ ایک میت لائی گئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس پر قرض ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، دو دینار۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔“ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کا ذمہ دار ہوں، پھر آپ ﷺ نے اس کی نماز پڑھائی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات عطا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہر مومن کا زیادہ حق دار ہوں اس کی جان سے۔ جو مقروض فوت ہو اس کا قرض مجھ پر اور جو مال چھوڑے تو وہ اس کے ورثا کے لیے ہے۔“