السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحوالة— حوالہ کا بیان
باب: وجوب الحق بالضمان باب: ضمانت کے ذریعے حق واجب ہونے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ: الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِي وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ يَشَاءُ أَنْ يَمُوتَ " وَذَكَرَ الْمُزَنِيُّ هَا هُنَا حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الضَّمَانِ، وَإِسْنَادُ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ضَعِيفٌ، فَالْأَوْلَى بِنَا أَنْ نُقَدِّمَ مَا.سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ: ”میں ضامن ہوں اور ضامن ذمہ دار ہوتا ہے، اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؛ (اس کے لیے) جنت کے آخری مقام میں گھر کی اور جنت کے درمیان میں گھر کی بشارت ہے۔ اور میں ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اسلام قبول کیا اور ہجرت کی؛ (اس کے لیے) جنت کے آخری مقام میں گھر کی بشارت ہے اور جنت کے درمیان میں گھر کی اور جنت کے اعلیٰ مقام پر گھر کی، اور جس نے یہ (عمل) کیا اس نے خیر کی کوئی طلب نہیں چھوڑی اور نہ شر سے بھاگنے کا کوئی راستہ چھوڑا، وہ جہاں چاہے فوت ہو۔“
امام مزنی رحمہ اللہ نے یہاں ضمانت کے بارے میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے، اور ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند ضعیف ہے۔