❮
❯
حدیث نمبر: 11370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ يَخْتَصِمُونَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ، فَبَعَثَ مَعَهُمْ حُذَيْفَةَ فَقَضَى بِالْخُصِّ لِمَنْ تَلِيهِ الْقِمْطُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْسَنْتَ " وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمٍ، فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَوْجُهٍ مِنَ الِاخْتِلَافِ عَلَى دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ فِي إِسْنَادِهِ..
حافظ ثناء اللہ

ایک قوم کے لوگ نبی ﷺ کے پاس اپنا معاملہ لے کر آئے جو ایک جھونپڑی کے بارے میں تھا، آپ ﷺ نے ان کے ساتھ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے پاس رسی ملتی تھی۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تو نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔“
یہ دہثم بن قران پر اس کی سند میں اختلاف کی تین صورتیں ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلح / حدیث: 11370