السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلح— صلح کا بیان
باب: من استعمل الدلالة فقال: هو للذي إليه الدواخل ومعاقد القمط باب: اس شخص کا قول جس نے نشانیوں سے استدلال کیا اور کہا: دیوار اس کی ہے جس کی طرف اندرونی حصہ اور رسیاں باندھنے کی جگہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 11369
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ مَنِيعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ دِينَارٍ، مَوْلَى جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ ظَفَرٍ، أَنَّ دَارًا كَانَتْ بَيْنَ أَخَوَيْنِ فَحَظَرَا فِي وَسَطِهَا حِظَارًا، ثُمَّ هَلَكَا وَتَرَكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَقِبًا، فَادَّعَى عَقِبُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ الْحِظَارَ لَهُ مِنْ دُونِ صَاحِبِهِ، فَاخْتَصَمَ عَقِبَاهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْضِي بَيْنَهُمَا فَقَضَى بِالْحِظَارِ لِمَنْ وَجَدَ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَبْتَ " قَالَ دَهْثَمٌ: أَوْ قَالَ: " أَحْسَنْتَ ". لَفْظُ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
جاریہ بن ظفر سے روایت ہے کہ دو بھائیوں کا ایک گھر تھا، انہوں نے درمیان میں باڑ لگا لی، پھر وہ دونوں فوت ہو گئے اور اپنی اولاد چھوڑ گئے، دونوں کی اولاد نے باڑ کا دعویٰ کر دیا، ان دونوں کا معاملہ نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، پھر باڑ کا فیصلہ اس کے حق میں ہوا جس کے پاس کڑیاں تھیں، پھر سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے واپس آکر نبی ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا: ”تو نے درست فیصلہ کیا ہے۔“