السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: العهدة ورجوع المشتري بالدرك باب: عہدہ (ضمانت کی مدت) اور خریدار کا درک (نقصان یا استحقاق نکلنے) کی صورت میں رجوع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ السَّائِبِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِعَيْنِ مَالِهِ إِذَا وَجَدَهُ، وَيَتَّبِعُ الْبَيْعُ مَنْ بَاعَهُ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے، جب اسے پائے اور خریدنے والا بیچنے والے کے پیچھے جائے۔“