السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في بيع الحر المفلس في دينه باب: مقروض اور مفلس آزاد شخص کو بیچنے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11276
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " كَانَ يَكُونُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُيُونٌ عَلَى رِجَالٍ مَا عَلِمْنَا حُرًّا بِيعَ فِي دَيْنٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں پر قرضے ہوا کرتے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی کو قرضے کے عوض بیچ دیا گیا ہو۔ ابوداؤد سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔