السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: العهدة ورجوع المشتري بالدرك باب: عہدہ (ضمانت کی مدت) اور خریدار کا درک (نقصان یا استحقاق نکلنے) کی صورت میں رجوع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11278
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٨٥⦘ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا ضَاعَ لِأَحَدِكُمْ مَتَاعٌ، أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ، فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی آدمی کا مال ضائع ہو جائے یا چوری ہو جائے اور وہ اسے کسی آدمی کے پاس پا لے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اور خریدنے والا بیچنے والے سے رجوع کرے گا اور اپنی قیمت واپس لے گا۔“