کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مقروض اور مفلس آزاد شخص کو بیچنے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ فِي دَيْنِهِ " رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالشَّكِّ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک آزاد کو جو مفلس ہو گیا تھا اس کے قرضے میں بیچ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11272
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید یا ابوسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آزاد کو جو مفلس ہو گیا تھا اس کے قرضے میں بیچ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11273
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ أَنَّهُ يُقْدَمُ لَهُ بِمَالٍ، فَأَخَذَ مَالًا كَثِيرًا فَاسْتَهْلَكَهُ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَوُجِدَ لَا مَالَ لَهُ " فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابی حبیب نے بتایا کہ ایک آدمی مدینہ میں آیا تو اس نے کہا: ”پیچھے سے میرا مال آ رہا ہے“، چنانچہ یہ سن کر بطور قرض، اسے لوگوں نے مال دیا، جس سے اس کا مال بڑھ گیا۔ اس نے بےدریغ مال خرچ کیا تو اس کا سارا مال ختم ہو گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ ”اسے بیچ دیا جائے۔“ یہ منقطع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11274
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗٨٤⦘ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الِاسْمُ؟ فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ أَدَعَهُ، قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدَمُ، فَبَايَعُونِي، فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَنْتَ سُرَّقٌ "، فَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " أُعْتِقُهُ "، قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ فِي الْأَجْرِ مِنْكَ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ فِي اشْتِرَائِهِ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً، وَاسْتِهْلَاكِهِ ثَمَنَهَا. وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ سُرَّقٍ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَرَوَاهُ شَيْخُنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِيمَا لَمْ نَقْرَأْ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا فِي الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، فَذَكَرَهُ أَتَمَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ، وَمَدَارُ حَدِيثِ سُرَّقٍ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَكُلُّهُمْ لَيْسُوا بِأَقْوِيَاءَ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَابْنَا زَيْدٍ، وَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ فَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، وَفِي إِجمَاعِ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِهِ، وَهُمْ لَا يُجْمِعُونَ عَلَى تَرْكِ رِوَايَةٍ ثَابِتَةٍ، دَلِيلٌ عَلَى ضَعْفِهِ أَوْ نَسْخِهِ إِنْ كَانَ ثَابِتًا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک ضعیف العمر شخص کو دیکھا جسے ”سرَّق“ کہا جاتا تھا۔ میں نے اس سے کہا: یہ کیسا نام ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا نام رسول اللہ ﷺ نے رکھا تھا، جسے میں ہرگز ترک نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: میں مدینہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو کہا: میرا مال آرہا ہے، تو انہوں نے میرے ساتھ بیع کی، میں نے ان کا مال سارے کا سارا خرچ کر ڈالا۔ وہ مجھے نبی ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَنْتَ سَرَقٌ» ”تو چور ہے!“ پھر آپ ﷺ نے مجھے چار اونٹوں کے عوض بیچ دیا۔ میرے قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے پوچھا: تم اس کا کیا کرو گے؟ تو اس نے کہا: میں اسے آزاد کروں گا، تو وہ کہنے لگے: ہم تیری نسبت ثواب کے زیادہ محتاج ہیں، پھر انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور میرا نام باقی رہ گیا۔ اسی معنی کی ایک روایت اور ہے۔ عبدالرحمن اور عبداللہ رحمہما اللہ اپنے والد زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں جو مذکورہ حدیث سے مکمل ہے۔ اس میں ہے کہ اس نے ایک اعرابی سے اونٹنی خریدی اور اس کی قیمت خرچ کر گیا۔ اسے مسلم بن خالد زنجی نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابن بیلمانی سے اور انہوں نے سرق سے روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ہمارے شیخ امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں بیان کیا ہے۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بوڑھا دیکھا، اور انہوں نے مذکورہ ابن بشار کی حدیث سے مکمل بیان کی۔ یہ حدیث ضعیف ہے؛ کیونکہ سند میں اکثر راوی ضعیف ہیں: سرق کی حدیث کا دار و مدار عبدالرحمن بن عبداللہ اور زید کے دونوں بیٹوں پر ہے اور ان میں سے کوئی بھی قوی نہیں، اور اگر یہ حدیث زید عن ابن بیلمانی ہو تو ابن بیلمانی حدیث میں ضعیف ہیں۔ نیز علماء کا اس کے خلاف اجماع، جبکہ وہ کسی ثابت روایت کو ترک کرنے پر اجماع نہیں کرتے، اس کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے، یا اگر یہ ثابت ہو تو اس کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11275
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " كَانَ يَكُونُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُيُونٌ عَلَى رِجَالٍ مَا عَلِمْنَا حُرًّا بِيعَ فِي دَيْنٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں پر قرضے ہوا کرتے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی آزاد آدمی کو قرضے کے عوض بیچ دیا گیا ہو۔ ابوداؤد سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11276