حدیث نمبر: 11275
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗٨٤⦘ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الِاسْمُ؟ فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ أَدَعَهُ، قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدَمُ، فَبَايَعُونِي، فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَنْتَ سُرَّقٌ "، فَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " أُعْتِقُهُ "، قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ فِي الْأَجْرِ مِنْكَ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللهِ ابْنَا زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ فِي اشْتِرَائِهِ مِنْ أَعْرَابِيٍّ نَاقَةً، وَاسْتِهْلَاكِهِ ثَمَنَهَا. وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ سُرَّقٍ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَرَوَاهُ شَيْخُنَا فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِيمَا لَمْ نَقْرَأْ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا فِي الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، فَذَكَرَهُ أَتَمَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ، وَمَدَارُ حَدِيثِ سُرَّقٍ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَكُلُّهُمْ لَيْسُوا بِأَقْوِيَاءَ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَابْنَا زَيْدٍ، وَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ فَابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، وَفِي إِجمَاعِ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِهِ، وَهُمْ لَا يُجْمِعُونَ عَلَى تَرْكِ رِوَايَةٍ ثَابِتَةٍ، دَلِيلٌ عَلَى ضَعْفِهِ أَوْ نَسْخِهِ إِنْ كَانَ ثَابِتًا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک ضعیف العمر شخص کو دیکھا جسے ”سرَّق“ کہا جاتا تھا۔ میں نے اس سے کہا: یہ کیسا نام ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا نام رسول اللہ ﷺ نے رکھا تھا، جسے میں ہرگز ترک نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: میں مدینہ میں آیا تو میں نے لوگوں کو کہا: میرا مال آرہا ہے، تو انہوں نے میرے ساتھ بیع کی، میں نے ان کا مال سارے کا سارا خرچ کر ڈالا۔ وہ مجھے نبی ﷺ کے پاس لے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «أَنْتَ سَرَقٌ» ”تو چور ہے!“ پھر آپ ﷺ نے مجھے چار اونٹوں کے عوض بیچ دیا۔ میرے قرض خواہوں نے مجھے خریدنے والے سے پوچھا: تم اس کا کیا کرو گے؟ تو اس نے کہا: میں اسے آزاد کروں گا، تو وہ کہنے لگے: ہم تیری نسبت ثواب کے زیادہ محتاج ہیں، پھر انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور میرا نام باقی رہ گیا۔ اسی معنی کی ایک روایت اور ہے۔ عبدالرحمن اور عبداللہ رحمہما اللہ اپنے والد زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں جو مذکورہ حدیث سے مکمل ہے۔ اس میں ہے کہ اعرابی نے پھر اونٹنی خریدی اور اس کی قیمت خرچ کر گیا۔ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ہمارے شیخ امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں بیان کیا ہے۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اسکندریہ میں ایک بوڑھا دیکھا۔۔۔ مذکورہ ابن بشار کی حدیث سے مکمل بیان کی۔ یہ حدیث ضعیف ہے؛ کیونکہ سند میں اکثر راوی ضعیف ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11275