السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: ما جاء في بيع الحر المفلس في دينه باب: مقروض اور مفلس آزاد شخص کو بیچنے کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11274
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ أَنَّهُ يُقْدَمُ لَهُ بِمَالٍ، فَأَخَذَ مَالًا كَثِيرًا فَاسْتَهْلَكَهُ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَوُجِدَ لَا مَالَ لَهُ " فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یزید بن ابی حبیب نے بتایا کہ ایک آدمی مدینہ میں آیا تو اس نے کہا: ”پیچھے سے میرا مال آ رہا ہے“، چنانچہ یہ سن کر بطور قرض، اسے لوگوں نے مال دیا، جس سے اس کا مال بڑھ گیا۔ اس نے بےدریغ مال خرچ کیا تو اس کا سارا مال ختم ہو گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ ”اسے بیچ دیا جائے۔“ یہ منقطع ہے۔