السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: الحجر على المفلس وبيع ماله في ديونه باب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، إِلَّا أَنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ دِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ؛ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ، وَآخِرَهُ حَرْبٌ ".عمر بن عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی سواریاں مہنگے داموں خریدتا تھا، پھر تیز چلتا تھا تاکہ حاجیوں سے پہلے پہنچ جائے۔ پھر وہ مفلس ہو گیا، اس کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما بعد! اے لوگو! اُسیفع، جہینہ کا اُسیفع، اپنے دین اور امانت کے بارے میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ کہا جائے: وہ حاجیوں سے سبقت لے گیا، مگر اس نے بے پروائی سے قرض لیا، چنانچہ وہ اس حال میں ہو گیا کہ قرض نے اسے گھیر لیا۔ جس کا اس پر قرض ہو وہ کل صبح ہمارے پاس آئے، ہم اس کا مال اس کے قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کر دیں گے، اور قرض سے بچو، اس کا آغاز غم سے ہے اور اختتام لڑائی پر ہے۔