حدیث نمبر: 11265
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، إِلَّا أَنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ دِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ؛ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ، وَآخِرَهُ حَرْبٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی سواریاں خریدتا تھا اور مہنگے داموں بیچتا تھا۔ چنانچہ وہ حاجیوں سے پہلے وہاں پہنچ جاتا تھا۔ پھر وہ مفلس ہو گیا، اس کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما بعد! اے لوگو! بے وقوف تو جہینہ کا بے وقوف ہے جو اپنے دین اور امانت پر راضی ہو گیا۔ اگر کہا جائے حاجی سبقت لے گئے (یعنی پہلے پہنچ گئے) مگر وہ ان سے اعراض کرتا تو وہ صبح مقروض ہونے کی حالت میں ہوتا، اگر کسی پر قرضہ ہو تو وہ ہمارے پاس کل آئے، ہم اپنا مال تاوان دینے والوں کو ادا کریں گے اور قرض سے بچو، اس کا آغاز غم سے ہے اور اختتام لڑائی پر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11265
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»