السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: الحجر على المفلس وبيع ماله في ديونه باب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11264
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْبَابَسِيرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " كَانَ رَجُلَانِ مِنْ جُهَيْنَةَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ، فَأَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّنَهُ إِيَّاهُ، وَكَانَتْ لَهُ قَرِيبٌ مِنْ مِائَتَيْ شَاةٍ فَبَاعَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَهُ " الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَشْبَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہینہ کے دو آدمیوں کا ایک مشترک غلام تھا۔ ان میں سے ایک نے اسے آزاد کر دیا تو (معاملہ) نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے آزاد کرنے والے کو (دوسرے کے حصے کا) ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کی دو سو کے قریب بکریاں تھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بیچ دیا اور دوسرے شخص کو دے دیں۔
حسن بن عمارہ ضعیف ہے، اور ثوری نے اسے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے قاسم بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ابومجلز سے مرسلاً روایت کیا ہے اور یہی زیادہ درست ہے۔