کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11260
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ التَّوقَاتِيُّ بِهَا وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْمُفَسِّرُ بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " حَجَرَ عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مَالَهُ، وَبَاعَهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ " ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سلمان شاذکونی ہشام بن یوسف سے بیان کرتے ہیں۔ (ب) ابراہیم بن معاویہ ہشام بن یوسف سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر مالی تصرف کی پابندی لگائی اور ان کا مال قرضے کی ادائیگی کے لیے بیچ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11260
حدیث نمبر: 11261
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَابًّا حَلِيمًا سَمْحًا مِنْ أَفْضَلِ شَبَابِ قَوْمِهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُمْسِكُ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ يَدَّانُ حَتَّى أَغْرَقَ مَالَهُ كُلَّهُ فِي الدَّيْنِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ غُرَمَاءَهُ، فَلَوْ تَرَكُوا أَحَدًا مِنْ أَجَلِ أَحَدٍ لَتَرَكُوا مُعَاذًا مِنْ أَجَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي مَالَهُ، حَتَّى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ " هَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَخَالَفَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے سب سے معزز، نرم خو نوجوان تھے۔ وہ اپنے پاس کچھ بھی نہیں رکھتے تھے، چنانچہ ہمیشہ مقروض رہتے تھے حتیٰ کہ ان کا سارا سامان قرضے میں چلا گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے ان سے بات کی، اگر وہ کسی کو کسی کی خاطر قرضہ معاف کرتے تو رسول اللہ ﷺ کی خاطر معاذ رضی اللہ عنہ کو معاف کرتے، آپ ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا مال بیچ دیا اور معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ باقی نہ بچا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11261
حدیث نمبر: 11262
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَابًّا جَمِيلًا سَمْحًا مِنْ خَيْرِ شَبَابِ قَوْمِهِ، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى دَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَغْرَقَ مَالَهُ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يُكَلِّمَ لَهُ غُرَمَاءَهُ، فَفَعَلَ، فَلَمْ يَضَعُوا لَهُ شَيْئًا، فَلَوْ تُرِكَ لِأَحَدٍ بِكَلَامِ أَحَدٍ لَتُرِكَ لِمُعَاذٍ بِكَلَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْرَحْ مِنْ أَنْ بَاعَ مَالَهُ وَقَسَّمَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ. قَالَ: فَقَامَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا مَالَ لَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ، فَذَكَرَهُ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ حضرت ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خوبصورت اور نرم خو نوجوان تھے اور اپنی قوم کے بہترین فرزند تھے۔ جو کچھ ان سے مانگا جاتا وہ دیتے تھے، حتیٰ کہ ان پر اتنا قرض ہو گیا کہ ان کا سارا مال قرض میں چلا گیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ میرے قرض خواہوں سے بات کریں۔ آپ ﷺ نے بات کی لیکن انہوں نے کچھ معاف نہ کیا۔ اگر کسی کو کسی کی خاطر قرض معاف ہوتا تو معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی خاطر قرض معاف کر دیا جاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ ﷺ ان کا مال بیچتے رہے اور قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کرتے رہے، چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ نہ بچا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11262
حدیث نمبر: 11263
وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٨١⦘ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ " أَنَّ غُلَامَيْنِ مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ، فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَحَبَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَاعَ فِيهِ غُنَيْمَةً لَهُ " هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن رجاء، ابومجلز رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کے دو لڑکوں کا ایک غلام تھا، ان میں سے ایک نے اپنا حصہ بیچ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے روک لیا حتیٰ کہ اس بارے میں اس کی بکریاں بیچیں۔ یہ مرسل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11263
حدیث نمبر: 11264
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ بِبَيْهَقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْبَابَسِيرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " كَانَ رَجُلَانِ مِنْ جُهَيْنَةَ بَيْنَهُمَا غُلَامٌ، فَأَعْتَقَهُ أَحَدُهُمَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّنَهُ إِيَّاهُ، وَكَانَتْ لَهُ قَرِيبٌ مِنْ مِائَتَيْ شَاةٍ فَبَاعَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَهُ " الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جہینہ کے دو آدمیوں کا ایک مشترک غلام تھا۔ ان میں سے ایک نے اسے بیچ دیا تو دوسرا نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنے بیچنے والے کو ذمہ دار ٹھہرایا اور دوسرے کی دو سو کے قریب بکریاں تھیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بیچ دیا اور دوسرے شخص کو دے دیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11264
حدیث نمبر: 11265
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دِلَافٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ كَانَ يَشْتَرِي الرَّوَاحِلَ فَيُغَالِي بِهَا، ثُمَّ يُسْرِعُ السَّيْرَ فَيَسْبِقُ الْحَاجَّ، فَأَفْلَسَ، فَرُفِعَ أَمْرُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ الْأُسَيْفِعَ أُسَيْفِعَ جُهَيْنَةَ رَضِيَ مِنْ دِينِهِ وَأَمَانَتِهِ أَنْ يُقَالَ: سَبَقَ الْحَاجَّ، إِلَّا أَنَّهُ قَدِ ادَّانَ مُعْرِضًا، فَأَصْبَحَ وَقَدْ دِينَ بِهِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا بِالْغَدَاةِ نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ، وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ؛ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ، وَآخِرَهُ حَرْبٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن دلاف اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کا ایک آدمی سواریاں خریدتا تھا اور مہنگے داموں بیچتا تھا۔ چنانچہ وہ حاجیوں سے پہلے وہاں پہنچ جاتا تھا۔ پھر وہ مفلس ہو گیا، اس کا معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اما بعد! اے لوگو! بے وقوف تو جہینہ کا بے وقوف ہے جو اپنے دین اور امانت پر راضی ہو گیا۔ اگر کہا جائے حاجی سبقت لے گئے (یعنی پہلے پہنچ گئے) مگر وہ ان سے اعراض کرتا تو وہ صبح مقروض ہونے کی حالت میں ہوتا، اگر کسی پر قرضہ ہو تو وہ ہمارے پاس کل آئے، ہم اپنا مال تاوان دینے والوں کو ادا کریں گے اور قرض سے بچو، اس کا آغاز غم سے ہے اور اختتام لڑائی پر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11265
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 11266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَقَالَ: " نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کا فیصلہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہم اس کا مال قرض خواہوں کے درمیان حصے کر کے تقسیم کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب التفليس / حدیث: 11266