السنن الكبرى للبيهقي
كتاب التفليس— مفلس کے احکام
باب: الحجر على المفلس وبيع ماله في ديونه باب: مفلس (دیوالیہ) پر پابندی (حجر) لگانے اور اس کے قرضوں کی ادائیگی میں اس کا مال فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 11266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَقَالَ: " نُقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ ".حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کا فیصلہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”ہم اس کا مال قرض خواہوں کے درمیان حصے کر کے تقسیم کر دیں گے۔“