السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في الاستيام والمماسحة باب: بھاؤ تاؤ کرنے اور خرید و فروخت میں نرمی اور کشادہ دلی اختیار کرنے کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11188
وَعَنْ أَبِي ثَوْبَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَبِيعُ شَيْئًا فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِأَوَّلِ سَوْمٍ، أَوْ أَوَّلِ السَّوْمِ؛ فَإِنَّ الْأَرْبَاحَ مَعَ السَّمَاحِ ".حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بدو کے پاس سے گزرے جو چیز بیچ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے ریٹ پر ہی سودا دے دیا کرو کیونکہ منافع نرمی کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔“