السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من سلف في شيء فلا يصرفه إلى غيره ولا يبعه حتى يقبضه باب: جس شخص نے کسی چیز میں سلف (بیع سلم) کی تو وہ اسے کسی دوسری چیز کی طرف نہ پھیرے اور اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11155
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ مَرْوَانُ قَدْ أَحَلَّ بَيْعَ الصُّكُوكِ الَّتِي بِالْآجَالِ قَبْلَ أَنْ تُسْتَوْفَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَحْلَلْتَ الرِّبَا بَيْعَ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ، وَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ "، فَرَدَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ذَلِكَ الْبَيْعَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، مروان نے بیعِ صکوک (سرکاری رقعے)، جس کی مدت مقرر ہوتی ہے، مکمل طور پر قبضے میں لینے سے پہلے حلال قرار دی تھی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے کہا: تو نے سود کو حلال قرار دیا ہے، چنانچہ گندم بیچی جاتی ہے حالانکہ اسے ابھی قبضے میں نہیں لیا گیا ہوتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص گندم خریدے وہ اسے پورا ماپنے سے پہلے نہ بیچے۔“ چنانچہ مروان نے اس بیع سے روک دیا۔