السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: من سلف في شيء فلا يصرفه إلى غيره ولا يبعه حتى يقبضه باب: جس شخص نے کسی چیز میں سلف (بیع سلم) کی تو وہ اسے کسی دوسری چیز کی طرف نہ پھیرے اور اسے قبضے میں لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے۔
حدیث نمبر: 11154
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خُلَيْدَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَفِ قُلْتُ: إِنَّا نُسْلِفُ فَنَقُولُ: إِنْ أَعْطَيْتَنَا بُرًّا فَبِكَذَا، وَإِنْ أَعْطَيْتَنَا تَمْرًا فَبِكَذَا، قَالَ: " أَسْلِمْ فِي كُلِّ صِنْفٍ وَرِقًا مَعْلُومَةً، فَإِنْ أَعْطَاكَهُ وَإِلَّا فَخُذْ رَأْسَ مَالِكَ، وَلَا تَرُدَّهُ فِي سِلْعَةٍ أُخْرَى ".حافظ ثناء اللہ
زید بن خلیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا، میں نے ان سے کہا: ہم بیع سلف کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اگر ہمیں گندم دی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے اور تر کھجور دی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے۔ انہوں نے جواب دیا: ہر موسمِ گرما میں معلوم چاندی کے ساتھ بیع سلم کر، اگر وہ تجھے دے اور اگر نہ دے تو اپنا راس المال واپس لے لو اور اسے کسی دوسرے سامان کے عوض مت بیچ۔