حدیث نمبر: 11121
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَتْ ⦗٤٢⦘ عَائِشَةُ: قَدِمَ تَاجِرٌ بِمَتَاعٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ أَلْقَيْتَ هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ الْغَلِيظَيْنِ عَنْكَ وَأَرْسَلْتَ إِلَى فُلَانٍ التَّاجِرِ فَبَاعَكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ أَرْسِلْ إِلِيَّ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ "، فَقَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللهِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنِّي أَدَّاهُمْ لِلْأَمَانَةِ، وَأَخْشَاهُمْ لِلَّهِ " وَنَحْوُ هَذَا فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ اسْتَدْعَى الْبَيْعَ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، لَا أَنَّهُ عَقَدَ إِلَيْهَا بَيْعًا، ثُمَّ لَوْ أَجَابَهُ إِلَى ذَلِكَ أَشْبَهَ أَنْ يُوَقِّتَ وَقْتًا مَعْلُومًا أَوْ يَعْقِدَ الْبَيْعَ مُطْلَقًا ثُمَّ يَقْضِيَهُ مَتَى مَا أَيْسَرَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کچھ تاجر سامان لے کر آئے، میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ یہ پرانے کپڑے پہننا چھوڑ دیں اور نئے خرید لیں اور جب آپ کے پاس پیسے آجائیں تو اس کی ادائیگی کرلینا، نبی ﷺ نے اس تاجر کی طرف پیغام بھیجا کہ ”دو کپڑے دے دو، میں آپ کو خوشحالی کے دنوں میں ان کی رقم واپس کر دوں گا“۔ وہ کہنے لگا: محمد ﷺ میرا مال کھانا چاہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جانتے بھی ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ امین اور متقی ہوں“۔ یہ اس بات پر محمول ہوگا کہ آپ نے آفر کی تھی، لیکن اس نے انکار کردیا، آپ نے بیع پکی نہیں کی تھی۔ پھر اگر وہ اجازت دے بھی دیتا تو اس بات کی زیادہ توقع تھی کہ آپ ﷺ وقت مقرر کرتے یا پھر مطلق بیع کرتے، پھر جب وسعت آتی تو ادا کرتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 11121